"الفصل فی الملل والاہواء والنحل" میں یہودیت کے متعلق ابن حزم کی تحقیقات اور مناہج ِبیان - ایک تحقیقی مطالعہ

  • Dr. Abid Naeem Wathra Forman Christian College University, Lahore
  • Muhammad Mudassar Shafique Visiting Lecturer, NUML University, Multan Campus

Abstract

Abstract

(A Study of Ibn Hazm’s Writing and Descriptive Methodologies on Judaism in “Al-Fisal fi al-Milal wa al-Ahwa’ wa al-Nihal”)

Ibn Hazm’s monumental and polemical nature work, “Al-Fisal fi al-Milal wa al-Ahwa’ wa al-Nihal” serves as his introduction in the discipline of Ilm-al-Kalam (Muslim Dialectical Theology). The article is aimed at highlighting critical approach, logical style, comparative methodology, linguistic qualities and drawbacks of Ibn Hazm’s writing about the belief system of five Jewish schisms. Ibn Hazm’s objectives of writing on non-Islamic beliefs were to prove dominance of Islam as sole intact religion over all other religions. Being pioneer Muslim Comparative Religionist, he has developed proper canons for the narration as well as criticism at other religious traditions. The tract he has provided on Jews, is based upon the sources of reading from their religious books and meetings with Jewish scholars for intellectual discourses. Without any doubt his critical expressions are mostly harsh and order of book contents is difficult to consult due to less organized information.

Key words: Muslim Comparative Religion, criticism on Judaism, Al-Fisal, Muslim-Jewish polemics, Dialectical Theology

 

References

حواشی و حوالہ جات
مسلم محققین کی یہودیت پر تصنیف کردہ معروف و مطبوع کتب کی تفصیل ملاحظہ کریں:
نمبر شمار نام کتاب نام مصنف/ محقق سن وفات ناشر
1 الدين والدولة في إثبات نبوة النبّي محمد صلى الله عليه وسلم
ابو الحسن علی بن سہل ربَّن طبری
تحقيق : استاذ عادل نويہض
256ھ/870ء دار الآفاق الجديدہ – بيروت، لبنان ،طبع اول: 1973ء


2 عيون الأخبار
ابو محمد عبد الله بن عبد المجيد بن مسلم بن قتيبہ دينوری
276ھ/889ء دار الكتب المصريہ، قاہرہ، مصر

3 المعارف
ابو محمد عبد الله بن عبد المجيد بن مسلم بن قتيبہ دينوری
276ھ/889ء دار المعارف، قاہرہ، مصر، طبع دوم
4 تأويل مختلف الحديث
ابو محمد عبد الله بن عبد المجيد بن مسلم بن قتيبہ دينوری
276ھ/889ء المكتب الاسلامی،بيروت، لبنان، طبع دوم:1993ء
5 تاريخ ابن واضح / تاريخ اليعقوبي ابو العباس احمد بن اسحاق بن جعفر بن وہب بن واضح يعقوبی 284ھ/897ء لائیڈن،برل، 1883ء
6 البلدان ابو العباس احمد بن اسحاق بن جعفر بن وہب بن واضح يعقوبی 284ھ/897ء دار الكتب العلميہ، بيروت، لبنان، طبع اول: 2001ء
7 تاريخ الرسل والملوك
المعروف تاريخ الطبري

ابو جعفر محمد بن جرير طبری
محقق: محمد ابو الفضل ابراهيم

310ھ/923ء دار المعارف، قاہرہ، مصر، طبع دوم :1967ء

مروج الذھب و معادن الجوھر/ تاریخ المسعودی ابوالحسن علی بن حصین ہذلی مسعودی ۳۴۶ھ / ۹۶۷ء مکتبہ عصریہ، بیروت، لبنان، طبع اول: 2005ء
التنبیہ والاشراف ابوالحسن علی بن حصین ہذلی مسعودی ۳۴۶ھ / ۹۶۷ء دار الصاوی، قاہرہ، مصر
البدء والتاريخ مطہر بن طاهر مقدسی 355ھ/966ء مكتبه الثقافہ الدينيہ، بور سعيد، مصر
تمهيد الأوائل وتلخيص الدلائل في الرد على الملحدة المعطلة والرافضة والخوارج والمعتزلة
محمد بن طيب بن محمد بن جعفر بن قاسم،قاضی ابو بكر باقلانی بصری
محقق: عماد الدين احمد حيدر


402ھ/1013ء مؤسسة الكتب الثقافيہ – لبنان ،طبع اول 1987 ء
تحقیق ما للہند من مقولۃ مقبولۃ فی العقل أو مرذولۃ، المعروف کتاب الہند ابوریحان محمد بن احمد بیرونی ۴۴۰ھ/۱۰۴۸ء عالم الکتب، بیروت، لبنان، طبع دوم: ۱۴۰۳ھ/۱۹۸۳ء
الآثار الباقية عن القرون الخالية ابوریحان محمد بن احمد بیرونی ۴۴۰ھ/۱۰۴۸ء مكتبة الثقافہ الدينيہ، بور سعيد، مصر

حضرت ابو خالد ىزىدؓ بن صخرؓ بن حرب صحابیٔ رسول اور صحابیٔ رسول ، ابوسفیانؓ صخر بن حرب کے صاحبزادے ہیں۔ آپ کی والدہ کا نام امّ الحکم زینب بنت نوفل اور ایک مرجوح قول کے مطابق ہند بنت حبیب ہے۔ لہذا آپ حضرت معاویہؓ کے سوتیلے بھائی ہیں۔ انہوں نے فتح مکہ کے روز اسلام قبول کیا اور حضور کی معیت میں غزوۂ حنین میں بھی شریک ہوئے۔ ان کو ‘‘یزید الخیر’’ کے لقب سے بھی جانا جاتا ہے۔ حضرت ابوبکر صدیقؓ نے اپنے عہدِ خلافت میں شام کی طرف ایک لشکر بھیجا، جس میں یزید بن ابی سفیانؓ بھی شامل تھے۔ ان کا انتقال طاعون کی وبا سے ۱۸ھ/۶۳۹ء میں ہوا۔ (الاستیعاب فی معرفۃ الاصحاب، ۴/۱۵۷۶، ۱۵۷۵؛ اسد الغابہ فی معرفۃ الصحابہ، ۴/۷۱۵ )
احناف کے نزدیک عقد موالات یہ ہے کہ ایک غیر معروف النسب شخص کا دوسرے شخص معروف النسب، جسے "مولی الموالاۃ"کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے،سے ایک ایسا رشتہ استوار کرنا کہ جس کی رُو سے معروف النسب شخص جب کسی جرم کا مرتکب ہو گا تو غیر معروف النسب شخص کے ورثاء اس جرم کا تاوان ادا کرنے کے ذمہ دار ہوں گے۔ نیز معروف النسب شخص، غیر معروف النسب کی مکمل وراثت کا وارث ہو گا۔ اس کے بدلے میں غیر معروف النسب شخص، معروف النسب ہو جائے گا۔ (الموسوعۃ الفقہیۃ الکویتیۃ، ۳۹/۳۴۳، ۳۴۴، (بذیل مادہ ‘‘مولی الموالاۃ’’)، وزارۃ الاوقاف والشئون الاسلامیہ ، کویت، طبع دوم، ۱۴۲۷ھ)
اس علاقے کے نام کے تلفظ مىں مؤرخىن مىں اختلاف پاىا جاتا ہے۔ قاضى صاعد بن احمد اندلسى (م462ھ/1070ء) نے اسے ”منت نشىم“ جب کہ علامہ ىاقوت حموى (م626ھ/1229ء) اور دیگر مؤرخین نے اس ”منت لىشم“ (Manta Lisham)لکھا ہے اور یہی راۓ راجح ہے۔ ىہ گاؤ ں جنوب مغربى اندلس کے شہر اونبہ (Niebla) کے قرىب واقع ہے۔ اونبہ کا شہر صوبۂ ولبہ (Huelva) کا اىک چھوٹا سا شہر ہے، جو درىائے ٹنٹو(The Tinto) کے بائىں کنارے پر واقع ہے۔ (صاعد بن احمد اندلسى، ابو القاسم، قاضى(م462ھ) طبقات الامم ،ص75، المطبعۃ الکاثولىکىۃ للآباء الىسوعىىن، بىروت ،1916ء ؛ حموى، ىاقوت بن عبد اﷲ، شہاب الدىن، معجم الادباء، 4/1651، تحقىق احسان عباس، دار العرب الاسلامى، بىروت، طبع اول، 1993ء ؛ اندلس کا تارىخى جغرافىہ، ص385،423،500)
جذوۃ المقتبس فى ذکر ولاۃ الاندلس، ص308 ؛ الضبى، احمد بن ىحىى، ابو جعفر (م599ھ)، بغىۃ الملتمس فى تارىخ رجال اہل الاندلس، ص415، دار الکاتب العربى، القاہرہ، 1976ء ؛ الذہبى، محمد بن احمد، شمس الدىن (748ھ) ، سىر اعلام النبلاء 18/184، مؤسسۃ الرسالۃ، طبع سوم،1985ء
طبقات الامم، ص77؛ جذوۃ المقتبس فى ذکر ولاۃ الاندلس ، ص309
طبقات الامم، ص77
اندلس میں بنو امیہ کی خلافت317ھ تا 422ھ/ 1031 ء -929ء قائم رہی۔ لیکن جب393ھ مىں محض 11برس کى عمر مىں خلىفہ ہشام المؤىد باللہ کو خلىفہ بنا دىا گىا تو صغر سنى کى وجہ سے وہ حکومت چلانے کے قابل نہ تھا لہذا اس کے حاجب (وزىر اعظم ) ابو عامر ،محمد بن ابى عامر المعافرى ، المعروف الحاجب المنصور نے آمرانہ انداز مىں حکومت پر قبضہ کر لىا اور خلىفہ کو برائے نام خلىفہ رہنے دىا۔ اور ىوں اس نے دولت عامرىہ کى بنىاد رکھى۔ اس کا عہد حکومت صفر 366 ھ تا 393 ھ /976ء تا 1003 ء تک رہا۔اس کے انتقال کے بعداس کا صاحبزادہ ،الحاجب المظفر، ابو مروان بن محمد بن ابى عامر المعافرى حکمران بنا، جو393ھ تا 399ھ/1003ء تا 1009ء حاکم رہا۔ اس کے انتقال کے بعد محمد بن ابى عامرکا دوسرا صاحبزادہ ،الحاجب الناصر، عبد الرحمان سنخول بن محمد المعافرى تخت نشین ہو گیا ۔اس نے399ھ/ 1009ءمیں خلىفہ ہشام المؤىد باﷲ کى کمزوری سے فائدہ اٹھا کر اسے برائے نام خلافت کے منصب سے بھی معزول کر دىا اور بلا شرکت غیرے اندلس کا فرماںروا بن بیٹھا۔ البتہ اسےمختصرعرصہ بعدہی اقتدار سے محروم ہونا پڑااورخلىفہ ہشام المؤىد باﷲ 400 ھ /1010ء مىں دوبارہ تختِ خلافت پرمتمکن ہو گیا۔ علامہ ابن حزم کے والد ،احمد بن سعىد دولت عامرىہ مىں حاجب المنصور اوراس کے بعد اس کے صاحبزادے حاجب المظفر کےبھی398ھ/ 1008ءتک معتمد وزىر تھے۔398 ھ/ 1008ء میں جب فسادات وحوادث کا اىک لامتناہى سلسلہ شروع ہوگىا اور قرطبہ بالخصوص ان حوادث کى آماج گاہ بنا تواحمد بن سعىد نےسىاست سے کنارہ کش ہونے میں عافیت جانی۔ (جذوۃ المقتبس فى ذکر ولاۃ الاندلس ، ص17، 78، 79؛ ابن حزم حىاتہ وعصرہ ، ص37 ؛ طوق الحمامۃ ، ص251، 252)
امام ابو سلىمان داود بن على بن خلف ظاہرى (270-201ھ/883-816ء) کا تعلق اصفہان کے علاقہ سے تھا ۔ ان کے اساتذۂ تفسىر و حدىث مىں امام اسحاق بن راہوىہ زىادہ معروف ہىں۔ داود بن على نے فقہ شافعى کو اختىارکرنے کے بعد چھوڑ دىا اور اىک نئے مسلک ”مسلکِ ظاہرى“ کى بنىاد رکھى۔ ان کےنزدیک قرآن و سنت کے ظاہر ی الفاظ سے استناد کیا جاتا ہے اور قیاس کو ماخذ شریعت نہیں سمجھا جاتا۔ اسی بناء پر انہیں ظاہری بھی کہا جاتا ہے۔ ان کا انتقال 270ھ/883ء مىں بغداد میں ہوا (سمعانی، عبدالکریم بن محمد، ابوسعد، (م۵۶۲ھ/۱۱۶۷ء)، الانساب للسمعانی، ۹/۱۳۰، ۱۲۹، تحقیق: عبدالرحمن بن یعلی یمانی، مجلس دائرۃ المعارف العثمانیہ، حیدر آباد، انڈیا، طبع اول، ۱۹۶۲)
معجم الادباء ، 4/1655؛ ابن حزم حىاتہ و عصرہ، ص78
معجم الادباء، 4/1655 ؛مراکشى، عبد الواحد بن على، المعجب فى تلخىص اخبار المغرب من لدن فتح الاندلس الى آخر عصر الموحدىن ، ص43،44، تحقىق ڈاکٹر صلاح الدىن ہروى، المکتبۃ العصرىہ، صىدا، بىروت، طبع اول،2006ء؛ ابن حزم حىاتہ وعصرہ ، ص262
طوق الحمامۃ ، ص262 ، 261؛ابن حزم حىاتہ وعصرہ ، 41-38؛معجم الادباء، 4/1651 ؛ الکامل فى التارىخ ، 7/621
ای لیوی پروونکل، (E. Levi-Provincal)، اُردو دائرۂ معارف اسلامیہ، ۳/۳۴۴ (بذیل مادہ "الاندلس")
طبقات الامم، ص76
ابن بشکوال، خلف بن ملک، ابو القاسم (م578ھ1183/ء) الصلۃ فى تارىخ ائمۃ الاندلس، ص605، تحقیق: ابراہیم ابیاری، دار الکتاب المصری، قاہرہ، مصر، طبع اول، 1989ء
لسان العرب، ۳/۳۹۴
الموسوعۃ المیسرۃ فی الأدیان والمذاہب والاحزاب المعاصرۃ، مراجعۃ: ڈاکٹر مانع بن حماد جہنی، ۱/۴۹۵، دار الندوۃ العالمیۃ، مصر، طبع چہارم، ۱۴۲۰ھ
The New Encyclopaedia Britannica (Micropaedia), Article Authored by: The Editors of Encyclopaedia Britannica, (S.V.: Judaism), Vol.6, P.638
فرقۂ سامریہ (Samaritans)کے تمام پیروکاریہودی النسل نہیں ہیں بلکہ ان میں سے کچھ افراد یہودی آباؤ اجداد اور کچھ ایسے غیریہودی آباؤ اجداد کی نسل سے تعلق رکھتے ہیں کہ جنہوں نے بعد میں یہودیت کو بطور مذہب اختیار کیا۔ اس فرقہ کا وجودموجودہ زمانے میں بھی ہے ، اگرچہ ان کی تعداد چند سو افراد تک محدود ہے۔ ان حضرت کو سامریہ نام دینے کی وجہ ان کی سامرہ/سماریہ(Smaria)نامی علاقے کی طرف نسبت ہے ۔ اصل عبارت حسب ذیل ہے:
"Samaritans: Inhabitants of Samaria of mixed Jewish and non-Jewish descent ... a tiny community of a few hundred still survives"
(Joan Comay, Who's Who in Jewish History after the Period of the Old Testament, Routledge publishers, London & New York, 1955, P.ix)
ابن حزم، ابو محمد ، علی بن احمد، الفصل فی الملل والا ہواء والنحل،تحقیق محمد ابراہیم نصر، عبدالرحمان عمیرہ، دارالجیل، بیروت،۱۴۰۵ ھ ،۱ /۱۷۷، ۱۷۸
ایضا ً،۱ /202
یہودی مصادر کے مطابق ا س فرقے کا عبرانی نام "Zedukim"ہے اور یہ فرقہ دوسرے Temple Period میں ۲۰۰ق م میں وجود میں آیا۔ یہ فرقہ اپنے زمانے کی سیاسی، مذہبی ، معاشی اور معاشرتی زندگی میں بہت دخیل رہا ہے ۔ چنانچہ اس معاشرے کے امراء و نیز مذہبی و سیاسی سیادت و قیادت اسی فرقے سے تعلق رکھتی تھی۔ اس فرقے کا بانی صدوق (Zadok) حضرت داؤدؑ اور ان کے بعد ان کے صاحبزادے حضرت سلیمانؑ کے ادوارِ حکومت میں اہم مذہبی منصب کا مالک تھا۔ اس فرقے کے اہم مذہبی عقائد میں جسمانی حشرونشر، روح کی ابدیت اور فرشتوں کے وجود کا انکار شامل ہے ۔ نیز تقدیر کے معاملے میں یہ فرقہ انسان کو اپنے تمام اعمال میں بالکلیہ خود مختار اور خدائی دسترس سے خارج قرار دیتا ہے ۔ اس فرقے کا وجود ۷۰ عیسوی میں ہیکل سلیمانی کی تباہی کے ساتھ ہی معدوم ہوگیا۔
)Encyclopaedia Judaica, Article authored by: Menahem Mansoor, Vol.14 , Pp. 620-622, (S.V.: Sadducees), Keter Publishing House Jerusalem Limited, Jerusalem, Israel, 4th Edition, 1978 AD)
الفصل فی الملل والا ہواء والنحل، ۱/۱۷۸
محقق کے زیر مطالعہ "الفصل فی الملل والا ہواء والنحل "کے نسخہ میں فرقۂ عنانیہ کا ایک نام ’’القرایین والمین‘‘ ،جبکہ"الفصل فی الملل والا ہواء والنحل "کے ہی ایک دوسرے نسخہ میں ’’القرایین والمین‘‘ کی بجائے ’’العراس والمسر‘‘ کے الفاظ موجود ہیں۔ (الفصل فی الملل والا ہواء والنحل، ۸۶/۱، مکتبہ الخانجی ، قاہرہ، مصر، س ن ) یہودی فرقہ عنانیہ کا ایک اور معروف نام ‘‘قرا ءون’’ یا ‘‘قراء ین’’ ہے ]یہ اصطلاح غالباً عبرانی الاصل ہے اور[ یہ ‘‘قراءۃ’’ کے لفظ کی طرف منسوب ہے، جو کتاب یا مکتوب کے معنیٰ میں مستعمل ہے۔ مذہبِ یہودیت کے پیروکار قراءۃ سے مراد اسفار عہد نامہ قدیم یعنی تورات مراد لیتے ہیں۔لہٰذا اس اصطلاح کا معنی ‘‘محض تورات پر عمل پیرا ہونے والے افراد’’ ہے۔ اس فرقے کو قراءین کے نام سے موسوم کرنے کی وجہ یہ ہے کہ ان کے نزدیک تورات کے محض مکتوبہ احکامات قابل عمل ہیں اور دیگر یہود کے برخلاف یہ علماءِ یہود کی جانب سے کی گئی زبانی تشریحاتِ کتب مقدسہ مثلاً مشنا وغیرہ کو مذہبی تقدس کا حامل نہیں گردانتے۔ (محمد ضیاء الدین اعظمی، ڈاکٹر، دراسات فی الیہودیة والنصرانىة و اديان الهند،ص 226،225، مکتبة الرشد، ریاض، سعودی عرب، طبع دوم، 2003ء)
الفصل فی الملل والا ہوا ء والنحل ، ۱/۱۷۸
یہودِ ربانیہ یہود کا سب سے بڑا فرقہ ہیں۔ قرآن پاک میں دو مقامات یعنی سورہ مائدہ کی دو آیات میں ان کا ذکر ‘‘ربانیون’’ کے الفاظ کے ساتھ کیا گیا ہے۔ اس اصطلاح کی لغوی تشریح درج ذیل ہے:
"قال سیبويه: الربانی منسوب الی الرب بمعنی کونه عالماً به مواظبا علی طاعته، وزیادۃ الألف والنون فيه للدلالة علی کمال ھذہ الصفة، وقال المبرد: الربانیون أرباب العلم، واحدھم ربان وھو الذی یربّی العلم ویربّی النّاس أي یعلّمهم و ینصحهم، والألف والنون للمبالغة، فعلی قول سیبويه: الربانی منسوب الی الرب علی معنی التخصیص بمعرفة الرب و طاعته، وعلی قول المبرد مأخوذ من التربية... وقال ابوعبیدۃ: أحسب أن ھذہ الکلمة لیست عربية، انما هي عبرانية أو سریانية" (الخازن، علی بن محمد، ابوالحسن، (م۷۴۱ھ/۱۳۴۱ء)، لباب التاویل فی معانی التنزیل (المعروف تفسیر خازن)، تحقیق: محمد علی شاہین، دار الکتب العلمیۃ، بیروت، لبنان، طبع اول، ۱۴۱۵ھ)
مذکورہ بالا عبارت کا مفہوم یہ ہے کہ امام سیبویہ اور امام مبرد کے نزدیک ربانی جو کہ ربانیون کا مفرد ہے، دراصل عربی لفظ ہے لیکن اس کے ماخذ اشتقاق میں دونوں کی رائے مختلف ہے۔ امام سیبویہ کے نزدیک یہ اصطلاح، رب کے لفظ کی طرف منسوب ہے۔ یعنی ربانی اس شخص کو کہا جاتا ہے کہ جومعرفتِ الٰہی کا حامل ہو اور اطاعتِ خداوندی میں اپنی زندگی گزارتا ہو۔ اس تاویل کے مطابق ربانی کے آخر میں الف نون کا اضافہ اس صیغہ کے حامل کے معرفتِ الٰہی اور اطاعت خداوندی میں کمال کے درجے کو پہنچنے پر دلالت کرتا ہے۔
امام مبرّد کے نزدیک یہ اصطلاح جمع ہے، جس کا مفرد ‘‘ربّان’’ ہے۔ اس کا ماخذ اشتقاق "تربیت"ہے۔ لہٰذا ربّان وہ شخص ہے کہ جس کی زندگی کا منشا عوام الناس کی تعلیم و تربیت اور وعظ و نصیحت ہو۔ ان کے نزدیک بھی اس لفظ کے آخر میں موجود الف اور نون مبالغہ کیلئے ہیں۔ امام ابوعبیدہ کے نزدیک یہ لفظ عربی کی بجائے عبرانی یا سریانی الاصل ہے، جسے بعد ازاں عربی زبان میں استعمال کیا جانے لگا۔
مذکورہ بالا تفصیل سے یہ بات بخوبی جانی جا سکتی ہے کہ ربانیون کی اصطلاح ان یہودی علماء کیلئے مختص تھی کہ جو یہودی علمِ دین کی خدمت اور عوام الناس کی تربیت میں اپنا وقت صرف کرتے تھے۔
الفصل فی الملل والا ہواء والنحل ، ۱/۱۷۸
فرقۂ عیسویہ دوسرے ہیکل سلیمانی کی تباہی کے بعد وجود میں آیا ۔ (Encyclopaedia Judaica, Article authored by: Zvi Avneri (S.V: Abu Isa), Vol.2, P.183)
نیز فرقۂ عیسویہ اور فرقۂ یوذ عانیہ یہودیوں کے ایک بڑے فرقے ربانیہ میں ضم ہوکر ختم ہوگئے ۔ (Encyclopaedia Judaica, Article authored by: Joseph Elijah Heller/Leon Nemoy, (S.V: Karaites), Vol.10, P . 764)
الفصل فی الملل والاہواء والنحل، ۱/۱۷۹
ایضا ً، ۱/۳۷، ۶۳، ۲۰۲
الفصل فی الملل والا ہو اء والنحل ،۱ /37
وفىات الاعىان، 3/328
الفصل فی الملل والاہواء والنحل، ۱/225
ابن حزم اندلسی، الرد علی ابن النغریلۃ الیہودی، تحقیق: ڈاکٹر احسان عباس، مکتبہ دار العروبہ، مصر، ۱۹۶۰ء

Encyclopaedia Judaica, Keter Publishing House Jerusalem Limited, Jerusalem, Israel, 4th
Published
2020-06-30