تخلیق ِ انسان میں اول : آدم یا حوا علیھما السلام ( معاصر جدید فکر کا مطالعہ)

  • Dr. Usman Ahmad
Keywords: See

Abstract

See

References

حوالہ جات و حواشی
تخلیق آدم سے قبل مخلوقات میں فرشتوں اور جنات کا ہونا نصوص سے ثابت و یقینی ہے جب کہ دیگر مخلوقات کا جو ذکر مفسرین و مؤرخین نے کیا ہے اس کے بارے میں کچھ بھی قطعی طور پر نہیں کہا جا سکتا۔ ابلیس کے بارے میں قرآن نے کہا "كان من الجن" اگر چہ مفسرین نے یہاں جن کی تعبیر میں اختلاف کیا ہے لیکن بلاضرورت تاویل ِ بعید اصولِ تفسیر کے مطابق مستحسن نہیں۔ نیز قرآن میں سورۃ الجن واضح طور پر اس اس کے معنی متعین کرتی۔ اس لیے جنا ت کو تبعاً خطاب ِ سجدہ تھا۔ یا اکیلے ابلیس کو خطاب ِ سجدہ تھا، یہ ثابت ضرور ہو تا ہے کہ آدم کو ان پر فضل حاصل ہے۔ اسی طرح بہت سی نصوص میں آدم کی تخلیق اور جنات کی تخلیق کے مابین موازنہ اور پھر سجدہ سے انکار کا ذکر ہے ۔اگر ان کو سجدے کا حکم ہی نہیں تھا تو یہ موازنہ بلاضرورت ہو جائے گا۔
یہ اعلان کب ہوا إِنِّي جَاعِلٌ فِي الْأَرْضِ خَلِيفَة تخلیقِ آدم سے قبل یا آدم کی تخلیق کے کچھ زمانہ بعد جب فرشتے اس کو دیکھ اور جان چکے تھے ؟ اس کے بارے نص قرآنی سے یہی مستنبط ہوتا ہے کہ یہ آدم کی تخلیق کے کچھ عرصہ بعد ہوا اور فرشتے آدم کو جانتے تھے ۔یہ استنباط اس آیت سے ہے
اول۔ إِنِّي جَاعِلٌ فِي الْأَرْضِ خَلِيفَةیہاں لفظ جَاعِلٌہے خَالِقٌنہیں ہے ۔ تخلیق ہو چکی ہے اور منصب ِ خلافت ِ الٰہیہ پر فائز کیا جا رہا ہے ۔
دوم۔ یہاں مذکور نہیں کہ کس کو خلیفہ بنا رہے لیکن فرشتوں نے کہا قَالُوا أَتَجْعَلُ فِيهَا مَنْ يُفْسِدُ فِيهَا وَيَسْفِكُ الدِّمَاءَ وَنَحْنُ نُسَبِّحُ بِحَمْدِكَ وَنُقَدِّسُ لَكَ اس سے واضح ہے کہ وہ غیر مذکور شخصیت کو پہلے سے اچھی طرح جانتے تھے ۔ اس سے ثابت ہوتا ہے وہ موجود تھی ۔
سوم۔ اس آیت میں فرشتوں کے ساتھ گفتگو قَالُوا أَتَجْعَلُ فِيهَا مَنْ يُفْسِدُ فِيهَا وَيَسْفِكُ الدِّمَاءَ وَنَحْنُ نُسَبِّحُ بِحَمْدِكَ وَنُقَدِّسُ لَكَ قَالَ إِنِّي أَعْلَمُ مَا لَا تَعْلَمُونَ
کے بعد ارشاد ِ ربانی ہے وَعَلَّمَ آدَمَ الْأَسْمَاءَ اگر تخلیق نہ ہوئی ہوتی تو تعلیم کیسے ممکن تھی اور ترتیب کلام یہ ہوتی ثُمَّ خَلَقَ وَعَلَّمَ آدَمَ الْأَسْمَاءَ
البقرہ ۔۳۰
سجدے کے بارے میں دوطرح کے مباحث پائے جاتے ہیں
پہلا مبحث: جمیع ملائکہ سے مراد ملائکہ عنصریہ ہیں یا جنس ملائکہ ۔حضرت شاہ ولی اللہ رحمہ اللہ کی رائے ہے کہ تمام ملائک عنصریہ نے سجدہ کیا ۔یعنی ان کے نزدیک فِي الْأَرْضِ خَلِيفَةکا مطلب یہ ہے کہ سجدہ بھی انہی فرشتوں نے کیا جن کا تعلق مادیات و عنصریات سے تھا ۔ اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا إِنِّي جَاعِلٌ فِي الْعَالِمِين خَلِيفَةکہ تمام ملائکہ روحانیہ ، نورانیہ ، ملائکہ عرش و جنت و دوزخ سب سجدہ کرتے ۔ لہٰذا مادیات کے فرشتوں نے سجدہ کیا ۔ ان کی عبارت ہے " جن ملائکہ نے آدم علیہ السلام کو سجدہ کیا وہ ہمارے نزدیک ملائکہ عنصریین میں سے تھے اور ابلیس ان میں سے ایک تھا ۔یہ ملائکہ فلکیین ( ملائکہ علویین) نہیں ۔ اس سے وہ عقدہ حل ہو جاتا ہے جو اس آیت کے پڑھنے سے پیدا ہوتا ہے کہ كَانَ مِنَ الْجِنِّ فَفَسَقَ عَنْ أَمْرِ رَبِّهِ وہ جن کی قوم سے تھا اس لیے اس نے اللہ کے حکم سے سرتابی کی ۔الا ابلیس کی استثا ، استثنا منقطع نہیں بلکہ متصل ہے۔"(شاہ ولی اللہ الدھلوی ، الخیر الکثیر ،مترجم اردو: مولانا عبد الرحیم ، مولوی محمد بن غلام رسول سورتی تاجران کتب ، بمبئی، طبع اول، س۔ن،ص ۸۳)
تفسیر ابن ابی حاتم میں ہے " عَنِ الرَّبِيعِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ، فِي قَوْلِ اللَّهِ: " {وَإِذْ قُلْنَا لِلْمَلَائِكَةِ اسْجُدُوا لِآدَمَ} [البقرة: 34] ، قَالَ: الْمَلَائِكَةُ الَّذِينَ كَانُوا فِي الْأَرْضِ "(ابن ابی حاتم الرازی،أبو محمد عبد الرحمن بن محمد بن إدريس بن المنذر التميمي، الحنظلی(المتوفى:۳۲۷ھ)، تفسير القرآن العظيم،تحقیق: أسعد محمد الطيب،مكتبة نزار مصطفى الباز،المملكة العربية السعودية، طبع سوم، ۱۴۱۹ھ،ج۵،ص ۱۴۴۲، رقم حدیث: ۸۲۳۷)
دوسرا مبحث: حقیقت ِ سجدہ کیا تھی ؟ فرشتوں نے سجدہ آدم کو کیا یا اس کی حیثیت قبلہ کی تھی اور سجدہ کو اللہ کو کیا ۔امام ابو منصور ماتریدی لکھتے ہیں
سجود دو طرح کا احتمال رکھتے ہیں ۔پہلا: اس سے مراد خضوع ہو۔ جیسا کہ اللہ کا ارشاد ہے (اس کے لیے سجدہ کرتا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں)اور فرمان ِ الٰہی ( اور جڑی بوٹیاں اور درخت اسے سجدہ کرتے ہیں ) اس سے مراد خضوع و تعظیم ہے ۔ پھر اس کی دو توجیہات ہیں
اول:اللہ تعالیٰ نے جب اسے (آدم کو ) ان پر فضیلت دی بسبب ان علوم کے جن کے ساتھ اللہ نے اسے خاص کیا تو انہیں حکم دیا کہ خضوع و تعظیم کا اظہار کریں یہ ہر اس محتاج کے ذمے ہے جسے دوسرے سے امید ِ نجات ملی ہو۔ یااس نے بلندی و کرامت پائی ہو کہ اس کی تعظیم و تکریم کی جائے اور اس کے سامنے خضوع اختیا ر کیا جائے۔
دوم: اللہ نے ان کا امتحان لیا تا کہ اطاعت کی عظمت ظاہر ہو۔ کیونکہ اس کے سامنے خضوع کا اظہار آسان کام ہے جس کا معاملہ بلند ہو اور وہ قدر و منزلت کے لحاظ سے اونچا ہو کیوں کہ مخلوقات کی طبیعت یہی ہے ۔لیکن اگر جس کے سامنے خضوع کا حکم دیا جارہا ہے وہ اس سے کم مرتبہ ہو یا اس سے کم صورت ہو یا ان دونوں کے مابین کثیر تفاوت نہ ہو تو آزمائش شدید ہو جاتی ہے ۔اطاعت کرنا اور خضوع کرنا مشکل امر بن جاتا ۔
تو اللہ نے ان کا امتحان لیا یہاں تک کہ وہ خضوع رکھنے والے اور اللہ کےحق کے آگے سر ِ تسلیم کرنے والے ظاہر ہو گئے۔ جو متکبر ِذاتی بنا وہ ابلیس تھا ۔
دوسرا: سجدے سے مراد حقیقی سجدہ ہو۔ یہ دو جوہ رکھتا ہے ۔پہلی یہ کہ سجدہ ٔ تعظیم ہو ۔ غیر اللہ کی عبادت تو جائز نہیں لہٰذا سجدۂ عبادت ممکن نہیں ۔اس کی مثال یوسف علیہ السلام کو بھائیوں کا سجدہ ہے ۔ دوسری یہ کہ سجدہ اللہ کو تھا اور رخ آدم کی طرف تھا جیسا کہ کعبہ کی طرف منہ کر کے سجدہ کیا جاتا ہے تاکہ کعبہ کی عظمت کا اظہار ہو اورزمین کے دیگر مقامات میں اس کا اختصاص ظاہر ہو۔اسی طرح آدم بمنزلہ قبل تھے تا کہ تمام انسانوں میں ان کی عظمت ظاہر ہو ۔( الماتريدی،محمد بن محمد بن محمود، أبو منصور (المتوفى:۳۳۳ھ)،تأويلات أهل السنة،تحقیق: د. مجدي باسلوم،دار الكتب العلمية،بيروت، طبع اول، ۱۴۲۶ھ/ ۲۰۰۵ء،ج۱،ص ۴۱۹، ۴۲۰، السجود يحتمل وجهين:الوجه الأول: الخضوع كما قال اللَّه تعالى۔۔۔۔الٰی وتبجيلًا من بين سَائِر البشر)
البقرۃ۔۳۴
السجدۃ۔۷
الاحزاب۔۷۲
المعارج۔ ۱۹
الحجر ۔۲۶ تا ۲۹
الاعراف۔۱۲
النساء ۔۴
الاعراف۔۱۸۹
الروم۔۲۱
آل عمران ۔۵۹
سیاق ِ قرآنی کے پیش نظر ایک اور وجہ ٔ تشبیہ بھی بنتی ہے ۔قرآن نے اس سے پہلے إِذْ قالَ اللَّهُ يا عِيسى إِنِّي مُتَوَفِّيكَ وَرافِعُكَ إِلَيَّ وَمُطَهِّرُكَ مِنَ الَّذِينَ كَفَرُوا وَجاعِلُ الَّذِينَ اتَّبَعُوكَ فَوْقَ الَّذِينَ كَفَرُوا إِلى يَوْمِ الْقِيامَةِ میں عقیدۂ رفع ِ مسیح بیان کیا ہے ۔جس کا تعلق حیات ِ آسمانی سے ہے۔ یہ دوسری وجہ ٔ تشبیہ ہے کہ جس طرح آدم نے حیات ِ آسمانی کے بعد "ہبوط " کیا اورحیات ِ دنیوی گزار کر زمین پر وفات پائی اسی طرح مسیح علیہ السلام "نزول" فرما کر ، حیات ِ بقیہ گزار کر وفات پائیں گے۔(واللہ اعلم )
یہاں مُتَوَفِّيكَ کے معنی توفی موت دینا اس لیے نہیں کیے جا سکتے کہ کے اسی کلام کے تسلسل میں آگے فرمایا گیا فَيُوَفِّيهِمْ أُجُورَهُمْ یہاں ان کے اجر کو موت دینا مراد نہیں لیے جا سکتے۔ ایک ہی تسلسل ِ کلا م میں ایک ہی طرح کے الفاظ کے دو مختلف معانی لینا فصاحتِ کلام کے خلاف ہے۔
الاسراء۔۶۱ ۔
الانعام۔۹۸
فاطر ۔۱۱
البقرہ۔۳۵
الاعراف۔۱۹
طہ ۔۱۱۶، ۱۱۷
الدخان۔۵۴
النساء ۔۱۲
الزخرف:۷۰
الشعراء:۷
الواقعہ ۔۷
الصافات۔۲۲
مجاهد بن جبر، أبو الحجاج، التابعی المكي القرشی المخزومی (المتوفى:۱۰۴ھ)، تفسير مجاهد،تحقیق: الدكتور محمد عبد السلام أبو النيل،دار الفكر الإسلامي الحديثة، مصر، طبع اول، ۱۴۱۰ھ /۱۹۸۹ء،ص ۵۶۷
مقاتل بن سليمان بن بشير، أبو الحسن، الأزدي البلخى (المتوفى:۱۵۰ھ)، تفسير مقاتل بن سليمان،تحقیق: عبد الله محمود شحاته،دار إحياء التراث،بيروت،طبع اول، ۱۴۲۳ھ، ج۴،ص ۶۰۱
المجادلہ ۔۰۱
ابو هلال العسکری، الحسن بن عبد الله بن سهل بن سعيد بن يحيى بن مهران العسكري (المتوفى: نحو۳۹۵ھ)، الوجوه والنظائر، تحقیق:محمد عثمان،مكتبة الثقافة الدينية، القاهرة،طبع اول، ۱۴۲۸ھ/۲۰۰۷ء،ص ۲۴۲، ۲۴۳
ابن الجوزی،جمال الدين أبو الفرج عبد الرحمن بن علي بن محمد (المتوفى:۵۹۷ھ)، نزهة الأعين النواظر في علم الوجوه والنظائر،تحقیق: محمد عبد الكريم كاظم الراضي،مؤسسة الرسالة، بيروت، طبع اول، ۱۴۰۴ھ/ ۱۹۸۴ء،ص ۳۳۶
عصام الدین اسما عیل بن محمد الحنفی ( ۱۱۹۵ھ) ،حاشیۃ القونوی علیٰ تفسیر البیضاوی ،تحقیق: عبد اللہ محمود محمد عمر، دار الکتب العلمیہ ، بیروت ، طبع اول، ۱۴۲۲ھ /۲۰۰۱ء،ج۱۴،ص ۴۰۸
الإستراباذی،محمد بن الحسن الرضي ، نجم الدين (المتوفى:۶۸۶ھ)، شرح شافية ابن الحاجب،تحقیق:محمد نور الحسن،محمد الزفزاف،محمد محيى الدين عبد الحميد،دار الكتب العلمية بيروت، ۱۳۹۵ھ/۱۹۷۵ء،ج۳،ص ۱۷۶۔۱۸۰
آل عمران۔۳۰
الروم ، ۲۰، ۲۱
زہیر قوطرش، حواء خلقت قبل آدم، تاریخ النشر: ۵ فروری ۲۰۰۸، شبکہ: ahl.quran.com، تاریخ اخذ: ۲۹ ۔اپریل ۲۰۲۰ء
صٓ۔۷۲تا ۷۶
آل عمران۔۸۱
Published
2021-07-07