نزولِ احکام میں تدریج اور انسانی مصلحتوں کا لحاظ

Authors

  • حافظ محمد عبداللہ حافظ Author
  • حافظ طارق رشید حافظ Author

Abstract

تدریج انسانی فطرت کی خاصیت ہے جو ہر چیز میں رفتہ رفتہ اور مرحلہ وار عمل پذیر ہوتا ہے۔ اسی طرح آفاقی دینی نظام میں انسانی مزاج، استعداد، حال اور حسن فطرت کا بھرپور لحاظ کیا گیا ہے۔ مثال کے طور پر "نزولِ احکام" میں تدریج کے عمل کو مدنظر رکھا گیا تاکہ مومنین پر اچانک سخت احکام کا بوجھ نہ پڑے۔ اور ان احکام کے ساتھ ساتھ اس نظام کے دیگر اصول بھی انسانی نفسیات کے عین مطابق وضع کیے گئے ہیں۔ مثلاً شراب کی حرمت کو مرحلہ وار بیان کیا گیا تاکہ لوگ آہستہ آہستہ اسے ترک کرنے کی طرف مائل ہوں۔

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
"ھُوَ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ فِیْ سِتَّۃِ اَیَّامٍ"
(وہی ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو چھ دن میں پیدا کیا۔)

یہ کائنات بھی تدریجاً اور مرحلہ وار تخلیق کی گئی ہے تاکہ اللہ کے نظام کی قدرت اور اس کے کمال کو واضح کیا جا سکے۔ اسی طرح قرآن کریم کے احکام بھی انسانی سہولت اور ضرورت کے مطابق تدریجاً نازل کیے گئے۔

شراب کی حرمت کے لیے قرآن میں تین مختلف مراحل میں حکم دیا گیا تاکہ معاشرہ اس کے چھوڑنے کے لیے خود کو آمادہ کرے۔ یہ تدریج اور آسانی انسانی نفسیات اور عملی زندگی کی حقیقتوں کو مدنظر رکھتے ہوئے دی گئی ہے۔

Downloads

Published

2011-12-31